جمعہ 4 ستمبر 2026 - 02:07
جی 20 سے ایس سی او تک: ایرانی استقامت اور عالمی طاقتوں کی دوہری شکست

حوزہ/جی 20 سے ایس سی او تک: ایرانی استقامت اور عالمی طاقتوں کی دوہری شکست؛ ایس سی او کے بعد جی ۲۰ میں چین کی تنہا مزاحمت نے امریکی ایجنڈے کو خاک میں ملا دیا، آبنائے ہرمز پر ۱۹ ممالک کی مرضی ایک ملک کیخلاف بے اثر ہو گئی۔

تحریر: آغا سید عابد حسین الحسینی

حوزہ نیوز ایجنسی| گزشتہ روز ہم نے بشکیک اعلامیہ کا جائزہ لیا تھا، اور کثیر القطبی دنیا کی طرف نیا سفر لکھا تھا آج اسی تناظرے میں جی 20 کے بیانیہ کا تجزیہ پیش خدمت ہے جہاں ایس سی او کے اجلاس میں امریکہ-اسرائیلی محور کے خلاف اجتماعی موقف اپنایا گیا۔ آج ہم اس سلسلے کی دوسری قسط میں عالمی سطح پر ایک اور اہم واقعہ کا تجزیہ کریں گے، جس نے واشنگٹن کی یکطرفہ سوچ کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔

امریکہ کی اپنی زمین پر ایشی ول میں شکست

یکم ستمبر ۲۰۲۶ کو امریکہ کی ریاست شمالی کیرولائنا کے شہر ایشی ول میں جی ۲۰ کے وزرائے خزانہ اور مرکزی بینکوں کے گورنروں کا دو روزہ اجلاس اختتام پذیر ہوا۔ امریکی وزیرخزانہ سکاٹ بیسنٹ نے اس اجلاس کی صدارت کی اور امید ظاہر کی تھی کہ وہ متفقہ اعلامیہ جاری کریں گے۔ مگر حقیقت کچھ اور تھی۔

بیسنٹ نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ جی ۲۰ کے ۲۰ ارکان میں سے ۱۹ نے آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری گزر کے مطالبے کی حمایت کی، مگر چین نے اس کی مخالفت کر دی۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ متفقہ اعلامیہ جاری نہیں کیا جا سکا اور امریکہ کو صرف "صدارتی بیان" جاری کرنے پر اکتفا کرنا پڑا۔

چین نے ایرانی استقامت کا دفاع کیا

بیسنٹ نے اس کو ۱۹-۱ کی فتح قرار دینے کی کوشش کی، مگر حقیقت یہ ہے کہ چین نے چار اہم نکات پر مخالفت درج کی:

۱۔ آبنائے ہرمز سے متعلق شق (پیراگراف ۴): جس میں توانائی کی تجارت میں رکاوٹوں پر تشویش اور آبنائے میں آزاد، محفوظ اور قابلِ پیشن گوئی بحری گزر کا مطالبہ تھا۔

۲۔ عالمی معاشی عدم توازن (پیراگراف ۱۰ اور ۱۱): جس میں "غیر مارکیٹ پالیسیوں" کو ختم کرنے اور زائد بیرونی سرپلس والے ممالک کو گھریلو کھپت بڑھانے کا کہا گیا۔

۳۔ مقروض ممالک کے قرضوں کی تنظیم نو (پیراگراف ۱۳): جس میں جی ۲۰ کے مشترکہ فریم ورک کو مضبوط بنانے کا مطالبہ تھا۔

آبنائے ہرمز: تیل کی سیاست اور ڈالر کا چیلنج

آبنائے ہرمز دنیا کی تقریباً ۲۰ فیصد تیل کی تجارت کا راستہ ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ نے اس آبی گزرگاہ کو شدید متاثر کیا ہے۔ ایران نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے سے گزرنے والے جہازوں کی ادائیگی صرف چینی یوآن میں قبول کرے گا۔

یہ کوئی معمولی فیصلہ نہیں۔ ۱۹۷۰ کی دہائی سے جس "پیٹروڈالر" کے نظام نے امریکہ کو عالمی معیشت پر غیرمعمولی کنٹرول دیا تھا، اسے چین اور ایران مل کر چیلنج کر رہے ہیں۔ چین نے اپنا کراس بارڈر انٹر بینک پیمنٹ سسٹم (CIPS) تیار کیا ہے، جس کے ذریعے ایک دن میں ۱.۲۲ ٹریلین یوآن (۱۷۹ بلین ڈالر) کی ٹرانزیکشن ریکارڈ کی گئی۔

یوآن میں تیل: ڈالر کے غلبے کا خاتمہ؟

رپورٹس کے مطابق چین ایران کے سمندری تیل کی برآمدات کا ۸۰ فیصد خریدتا ہے اور اس کی ادائیگی ڈالر کی بجائے یوآن میں کی جاتی ہے۔ ایران یہ یوآن چینی سرمایہ کاری اور اشیاء کی خریداری پر خرچ کرتا ہے، جس سے پوری تجارت امریکی مالیاتی نظام سے باہر ہو جاتی ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق ایران نے ۲۰۲۴ میں ۴۳ بلین ڈالر کی تیل کی آمدنی حاصل کی، جس کا زیادہ تر حصہ یوآن میں تھا۔ یہ رقم ہانگ کانگ کی شیل کمپنیوں کے ذریعے منتقل ہوتی ہے اور امریکی نگرانی سے باہر ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ نے پہلے ہی تصدیق کی ہے کہ ایران چین، بھارت اور روس کو تجارتی جہاز رانی کے لیے آبنائے ہرمز تک رسائی کی اجازت دیتا ہے۔ آبنائے دنیا کے لیے بند نہیں، بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے لیے بند ہے۔

کثیر القطبی دنیا کی طرف

ایشی ول میں چین کی تنہا مزاحمت اور بشکیک میں ایس سی او کا متحد موقف دونوں اس بات کے ثبوت ہیں کہ عالمی سیاست میں یکطرفہ سوچ کا دور ختم ہو رہا ہے۔ جی ۲۰ کے ۱۹ ممالک کی مرضی کو چین نے اپنی خودمختاری اور مفادات کی خاطر مسترد کر دیا۔

یہ وہی اصول ہے جس پر ہندوستان نے عدم وابستگی کے دوران بھی عمل کیا اور آج بھی کر رہا ہے۔ جب چین، روس اور ایران متبادل مالیاتی نظام تشکیل دے رہے ہیں، تو ہندوستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو ان نئے جغرافیائی سیاسی حقائق کے مطابق ڈھالے اور مظلوم اقوام کے ساتھ کھڑے رہنے کی اپنی روایت کو برقرار رکھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha